Question & Answer

  • جائز کام کیلئے قسم توڑ سکتے ہیں بعد میں کفارہ ادا کریں

    الاستفتاء

     کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلے کے: میں نے کسی کام (عملیات) نہ کرنے کے لیے قرآن شریف کی قسم اُٹھائی تھی کہ آئندہ یہ کام نہیں کروں گا مگر مجھے ایک شخص اتنا مجبور کر رہا ہے کہ وہ کام شاید مجھے کرنا پڑے۔ تو میں نے جو قسم قرآن شریف کی اُٹھائی ہوئی ہے تو اس کا کفارہ کیسے ادا ہو گا اور کتنا ادا کرنا ہو گا؟ مجھے اس کا فتویٰ دیا جائے۔ مہربانی ہو گی۔

    محمد عزیز28 دسمبر 1983ء

    الجواب بعون الملک الوھاب

    اگر جائز کام کے لیے عملیات کرتے ہوں تو قسم توڑ سکتے ہیں بعد میں کفارہ دے دیں۔ کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو صبح شام پیٹ بھر کر کھانا کھلائیں یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنائیں جو بدن چھپا سکیں اور چاہیں تو بجائے کھانا کھلانے کے ہر مسکین کو 2 1/2 سیر گندم یا اس کی قیمت دے دیں۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    صدر مدرس جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 23 ربیع الاول 1404 ہجری 30 دسمبر 1983ء

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری