Question & Answer

  • قسم کا کفارہ

    الاستفتاء

    محترم جناب مفتی صاحب

    السلام علیکم 

    سوال: بعد سلام عرضِ خدمت ہے کہ میرے ایک دوست جو نہایت خدا ترس قسم کے انسان ہیں۔ چند دن قبل اُنہوں نے غصہ کی حالت میں یہ قسم کھائی کہ آج کے بعد میں کسی سے پیسے کا لین دین (کسی کو اُدھار وغیرہ دینا) نہیں کروں گا لیکن اب وہ اپنے کسی دوست کی مدد کرتے ہوئے کچھ رقم انہیں دینا چاہتے ہیں لہٰذا اس کے لیے وہ اپنی اللہ کی قسم کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ آپ سے التماس ہے کہ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتائیں کہ اگر میرے وہ دوست قسم ختم کرنا چاہیں تو کیا کفارہ ادا کرنا پڑے گا؟ برائے مہربانی جلد از جلد فتویٰ جاری فرمائیں۔ عین نوازش ہو گی۔ شکریہ

    فقط

    سہیل احمد عظیمی

    الجواب بعون الملک الوھاب

    قسم توڑنے کے بعد دس مسکینوں کو دس صدقہءِ فطر کی مقدار رقم دے دینے سے کفارہ ادا ہو جائے گا مگر دس مسکینوں کو اس طرح دیا جائے کہ ہر مسکین کو ایک صدقہءِ فطر کی رقم کی مقدار ادا کی جائے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    مفتی شمس العلوم جامعہ رضویہ نارتھ ناظم آباد کراچی 8 ربیع الاول 1412 ہجری 18 ستمبر 1991ء

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری