Question & Answer

  • بد گمانی

    الاستفتاء

     کیا فرماتے ہیں علمائے حق شرع متین

    مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں: (1) فریق اول فریق ثانی پر بدگمانی کرے (عملیات سے نقصان پہنچنا) فریق ثانی کے سامنے بات ہو تو فریق ثانی ہر طریقہ سے یقین کرائے، فریق اول کو یقین نہ آئے۔ آخری حد اللہ اور رسول اللہe اور کلام پاک پر بات پہنچ جائے۔ فریق ثانی اپنی جگہ صحیح ہو غلط بیان نہ ہو اللہ اور رسول کو حاضر و ناظر جان کر کلام پاک اُٹھائے صرف اس لیے کہ فریق اول کو یقین ہو جائے یہ جھگڑا ختم ہو جائے اور اللہ اور اُس کا حبیب راضی ہو جائے۔ (2) کیا یہ صحیح ہے؟ (3) کیا فریق ثانی اس طرح سے دُنیا اور آخرت میں بری الذمہ ہو جاتا ہے؟ (4) فریق اول کو پھر بھی یقین نہ آئے اس کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا وہ گنہگار ہو گا؟ برائے کرم کتاب و سنت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔ شکریہ

    الجواب بعون الملک الوھاب

    فریق ثانی اگر بری الذمہ ہے تو فریق اول کو اطمینان دلانے کے لیے قرآن کریم اور اللہ تعالیٰ کی قسم اُٹھا سکتا ہے۔ اب فریق اول کا اطمینان ضروری ہے۔ اگر وہ پھر بھی بدگمانی کرے تو گنہگار ہو گا۔

    اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

    یا ایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم۔

    سورۃ الحجرات آیت ۲۱

    ترجمہ: اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچو، بعض بدگمانیاں گناہ ہیں۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 26 جون 2004ء

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری