Question & Answer

  • ایام عدت میں مجبوری کی وجہ سے کورٖٹ میں جانا جائزہے

    الاستفتاء
    بخدمت جناب مفتی محمد ابراہیم صاحب
    السلام علیکم!
    سوال: گزارش یہ ہے کہ تقریباً ایک ماہ ہوا میری بچی کو شوہر نے تحریری طور پر طریقہ کار کے مطابق طلاق دی ہے جبکہ بچی حاملہ بھی ہے۔ اس سلسلہ میں بچی کو کورٹ میں بلوایا ہے۔ کیا بچی ان حالات میں کورٹ میں جا سکتی ہے اور باہر کسی اور ضروری کام مثلاً ڈاکٹر وغیرہ کے پاس جا سکتی ہے یا نہیں اور کب نہیں جاسکتی؟
    قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری راہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
    السائل
    نادر خان کالونی نمبر 4 باغ حیات علی شاہ سکھر
    الجواب بعون الملک الوھاب
    عورت عدت کے اندر گھر سے باہر نہیں جا سکتی مگر مجبوری کے تحت گھر سے باہر جا سکتی ہے۔ کورٹ کی حاضری اور ڈاکٹر کے پاس جانا بھی مجبوری کی حالت میں جائز ہے۔ اگر کورٹ میں وکیل عورت کی جگہ پیش ہو سکتا ہے تو عورت کورٹ میں پیش نہیں ہو سکتی اور یہ ممکن نہیں تو جا سکتی ہے۔ اس طرح اگر ڈاکٹر گھر پر آسکتا ہے تو عورت کو باہر جانے کی اجازت نہیں اور اگر ڈاکٹر گھر پر نہیں جا سکتا ہے مگر عورت فیس کی متحمل نہیں تو ڈاکٹر کے پاس جا سکتی ہے۔
    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ
    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر
    9 محرم الحرام 1422 ہجری 13 مارچ 2003ء
     

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری