Question & Answer

  • معتکف کا مسجد سے خروج

    الاستفتاء

     سوال: جناب مفتی محمد ابراہیم صاحب میرے چھوٹے بھائی محمد مناف ولد عبدالمجیب کی ضمانت کروانی ہے اور جو شخص یعنی محمد حنیف ولد عبداللہ اُس کی ضمانت دینا چاہتا ہے مگر وہ 26 نومبر 2002ء کی شام غوثیہ مسجد کپڑا مارکیٹ میں اعتکاف میں بیٹھ چکا ہے۔ کیا وہ ہمارے ساتھ کورٹ میں ضمانت دینے جا سکتا ہے۔ مہربانی کر کے اسلامی تعلیم کی روشنی میں آپ ہمیں فتویٰ دیں۔

    محمد آصف عبدالمجیب

    (سورٹھ میمن پلازہ کٹی بازار سکھر)

    الجواب بعون الملک الوھاب

    جو شخص اعتکاف بیٹھے طبعی ضروریات جیسے غسل جنابت، پیشاب، پاخانہ کے لیے مسجد سے باہر جا سکتا ہے۔ دوسرے کاموں کے لیے وہ مسجد سے باہر نہیں جا سکتا۔ اگر معتکف دوسرے کاموں کے لیے باہر جائے گا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں کوشش کرنی چاہیے کہ کورٹ میں جائے بغیر ضمانت کی سبیل نکل آئے اور اگر کورٹ میں جائے بغیر چارہ نہ ہو تو ایک انسان کی گردن چھوڑانے کے لیے کورٹ میں جانے میں حرج نہیں مگر اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 21 رمضان المبارک 1423 ہجری

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • استقبل ربيع الأول
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری