Question & Answer

  • حج بدل

    الاستفتاء

     جناب مولانا مفتی محمد حسین صاحب

    السلام علیکم!

    سوال: دیگر عرض یہ ہے کہ میں تین چار سال سے حج کرنے کی کوشش میں ہوں لیکن اجازت نہیں ملتی۔ وجہ یہ ہے کہ میرے ساتھ کوئی مرد نہیں۔ اب تین چار عورتیں اور مرد حج پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اگر شرع اجازت دیتی ہو تو مجھے بتا دیں میں ان کے ساتھ حج پر جا سکتی ہوں یا نہیں۔ میں اپنا تو حج تقریباً چھ سات سال قبل کر چکی ہوں۔ اب اپنی والدہ کا حج بدل کرنا چاہتی ہوں۔ اچھی طرح مسئلہ لکھ کر مجھے جلد از جلد مطلع کر دیں کیونکہ ایک مولانا سے معلوم کیا تو انہوں نے کہا کسی مرد کو اپنا بھانجا بھتیجا بنا کر جا سکتی ہو مگر ایک مولانا نے بتایا کہ جب تک کوئی محرم نہ ہو نہیں جا سکتیں۔ اب آپ مشورہ دیں میں کیا کروں۔ آپ کی احسان مند ہوں گی۔ شکریہ

    فقط

    نور جہاں بیگم

    الجواب بعون الملک الوھاب

    عورت کو بے شوہر و محرم سفر کے لیے نکلنا اگرچہ سفر حج ہو حرام ہے۔ والدہ کی طرف سے حج کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کے ساتھ محرم ہو تو آپ حج کریں اور اگر عقد مناسب سمجھیں تو عقد کر لیں اور شوہر کے ہمراہ حج کریں یا پھر کسی اور شخص کو حج کے لیے بھیج دیں۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم دارالافتاء جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 23 ربیع الاول شریف 1408 ہجری 16 نومبر 1987ء

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • استقبل ربيع الأول
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری