Question & Answer

  • کون زکوۃ نہیں لے سکتا

    الاستفتاء

     جناب قبلہ مفتی صاحب

    السلام علیکم!

    سوال(1-3): ہمارا تعلق سورٹھ جماعت سکھر سے ہے اور ہماری برادری نے غریبوں کے لیے زکوٰۃ کی رقم اکٹھی کر کے فلیٹ بنوائے ہیں۔ علماء دین سے فتویٰ لینے پر معلوم ہوا کہ زکوٰۃ کی رقم پر بنائے جانے والے رہائشی فلیٹ صرف زکوٰۃ کے حق داروں کو دیئے جائیں۔ (1) ہمارا سوال یہ ہے کہ جو شرائط شریعت میں زکوٰۃ لینے والوں پر عائد کی گئی ہیں۔ اگر وہ لوگ ان شرائط پر پورے نہیں اُترتے جو کہ شریعت نے زکوٰۃ لینے والوں پر لگائی ہیں اور صرف تحریری طور پر لکھ دیتے ہیں کہ ہم زکوٰۃ کے حق دار ہیں تو کیا ہم ان کو زکوٰۃ کے رہائشی فلیٹ دے سکتے ہیں یا نہیں۔ (2) اس کے علاوہ اگر ہم ان رہائشی فلیٹ جو کہ زکوٰۃ کی رقم سے بنے ہوئے ہیں، ان کو ہم ایسے غریب لوگ جو کہ زکوٰۃ کے حق دار نہیں ہیں لیکن مجبور ہیں اور اپنا گزارا بڑی مشکل سے کرتے ہیں۔ اگر ہم یہ فلیٹ ان غریب لوگوں کو کم کرایہ مثلاً 500 روپے فی ماہانہ پر دیں اور یہ رقم زکوٰۃ کے فنڈ میں ہی واپس جمع کر لیں تو اس کے بارے میں علمائے دین کیا فرماتے ہیں یا اس کا کوئی اور بہتر حل ہے۔ اس بارے میں ہماری معاونت فرمائیں۔ (3) ہمارے ایک فلیٹ کی قیمت تقریباً 3 سے 4 لاکھ روپے ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ 3 سے 4 لاکھ کی رقم کا فلیٹ ہم ایک آدمی کو دے سکتے ہیں یا نہیں۔

    حاجی عبدالرزاق فتانی  

    خزانچی سورٹھ ممین جماعت سکھر

    مورخہ 19 مارچ 2003ء

    الجواب بعون الملک الوھاب

    الجواب(1): جو شخص ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ان کے برابر روپے یا مالِ تجارت کا مالک ہو (بشرطیکہ اس پر اتنا قرضہ نہ ہو جسے منہا کرنے کے بعد نصاب مکمل نہ رہے) اس پر خود زکوٰۃ دینا فرض ہے ایسا شخص زکوٰۃ نہیں لے سکتا۔ اسی طرح اگر کسی شخص کے پاس سونا۔ چاندی۔ روپے۔ مالِ تجارت بقدرِ نصاب موجود نہیں ہے لیکن اس کے پاس اس کی ضرورت سے زائد کوئی چیز موجود ہے جس کی مالیت نصاب زکوٰۃ (جو کم از کم ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے) کے برابر یا زائد ہے مثلاً اس کے پاس دوموٹر سائیکل ہیں، ایک اس کے استعمال میں ہے اور دوسری فالتو پڑی ہے یا اس کے پاس ایک فالتو سائیکل۔ ایک فالتو ائر کولر اور نصاب سے کم رقم جمع ہے اور ان سب کو جمع کرنے سے نصاب مکمل ہو جاتا ہے۔ یہ شخص زکوٰۃ نہیں لے سکتا۔ اسی طرح ایک بیوہ عورت ہے اس کی ملک میں جمع روپیہ بقدرِ نصاب نہیں مگر اس کے پہننے یا رکھنے کے زیورات ساڑھے سات  تولہ سونا یا زائد وزن کے ہیں اور اس پر ایسا قرض بھی نہیں جسے منہا کرنے سے نصاب ختم ہو جائے تو ایسی عورت زکوٰۃ نہیں لے سکتی۔ الغرض ایسے لوگ زکوٰۃ نہیں لے سکتے اور ان سے کم درجہ کے لوگ زکوٰۃ لے سکتے ہیں لیکن اگر کسی شخص نے غلط فارم پر کیا اور حقائق کو چھپانے کی کوشش کی اور آپ واقف حال ہیں جانتے ہیں کہ یہ مذکورہ بالا امور کی بنا پر زکوٰۃ لینے کا اہل نہیں تو آپ فارم مسترد کر دیں اور اگر اس کے حال سے واقف نہیں اور بظاہر اس کی پوزیشن مستحق زکوٰۃ شخص کی معلوم ہوتی ہے تو آپ اسے زکوٰۃ دے سکتے ہیں پر اور زکوٰۃ کی مد میں فلیٹ دے سکتے ہیں۔ اگر اس سلسلے میں اس کے قریبی لوگوں سے معلومات کر لی جائیں تو زیادہ اچھا ہے، حتی الامکان جانچ پڑتال کے بعد بھی اگر کسی نے دھوکہ دیا تو اس کا وبال اس کی گردن پر ہے۔ آپ سے مواخذہ ان شاء اللہ تعالیٰ نہیں ہو گا۔ 

    الجواب(2): جو مستحق نہیں اسے کرایہ پر زکوٰۃ کے فلیٹ دینا جائز نہیں۔ وہ اپنی مرضی سے کوئی اور مکان کرایہ پر لے لے اور آپ کی انجمن خیرات و صدقاتِ نافلہ سے کچھ مدد کر دیا کرے یا اس کی بیوی یا بیٹا یا بیٹی جو نصاب زکوٰۃ کے مالک نہیں زکوٰۃ کا فلیٹ ان میں سے کسی کو دیا جائے۔

    الجواب (3): مستحق زکوٰۃ کو قیمتی سے قیمتی فلیٹ زکوٰۃ مد میں دیا جا سکتا ہے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 21 مارچ 2003ء

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری