Question & Answer

  • زکوۃ میں مارکیٹ ویلیو کا اعتبار ہے

    الاستفتاء

     بخدمت جناب حضرت علامہ مفتی محمد ابراہیم صاحب

    دارالعلوم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

    بعد تحیۃ مسنونہ خیریت طرفین مطلوب

    سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ سال پورا ہونے پر تاجر کے پاس دکان میں جو مال بچ جاتا ہے جیسے پرچون ہے، کپڑا ہے، دوائیاں ہیں، پرزہ پاٹ ہے فروخت نہیں ہوئے تو ان کی زکوٰۃ کا کیا مسئلہ ہے۔ ان پر لینے بچے ہوئے مال پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو قیمت خرید کے حساب سے زکوٰۃ دی جائے یا قیمت فروخت کے حساب سے زکوٰۃ دی جائے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ جانوروں کی زکوٰۃ بجائے جانور دینے کے اُس عمر کے جانور کی قیمت نقدی دے دے جانوروں کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟ بینوا توجروا۔ والسلام

    سائل

    محمد عمر کیف خطیب قادریہ جامع مسجد ریلوے مچھ

    مورخہ 22 رجب 1420 ہجری یکم نومبر 1999ء

    حضرت مولانا قاری محمد عمر کیف صاحب بعد از سلام مسنون! اُمید ہے کہ مزاج بخیر ہوں گے۔ کبھی کبھار اپنے احوال سے آگاہ فرما لیا کیجئے۔ استفتاء و جواب ان کی صورت میں بھی رابطہ غنیمت جاننا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے اہل و عیال کے ساتھ خوشحال زندگی بسر کر نے کی توفیق عطا فرمائے۔

    الجواب بعون الملک الوھاب

    سال گزرنے پر جو بھی مال بچا اس پر زکوٰۃ ہے۔ ادائیگی زکوٰۃ میں نہ قیمت خرید کا اعتبار ہے نہ قیمت فروخت کا بلکہ جس روز سال مکمل ہو گیا اس روز مال جو قیمت مارکیٹ میں ہو گی اسی حساب سے زکوٰۃ دی جائے گی۔ مثلاً ایک شخص فرنیچر کا کاروبار کرتا ہے اس کے پاس اختتام سال پر ایک سو کرسیاں ہیں۔ اس نے ایک کرسی 70 میں خریدی تھی اور آج وہ ایک کرسی سو روپے 100میں بیچ رہا ہے مگر مارکیٹ ویلیو فی کرسی 80 روپے ہے لہٰذا اس پر80 روپے فی کرنسی کے حساب سے آٹھ ہزار روپے کی زکوٰۃ 200روپے ادا کرنا ہو گی۔

    اس مثال سے واضح ہو گیا کہ زکوٰۃ میں نہ قیمت خرید کا اعتبار ہے نہ فروخت کرنے کا بلکہ مارکیٹ ویلیو کا اعتبار ہے۔ جانوروں کی زکوٰۃ میں خود جانور دینا ضروری نہیں بلکہ قیمت بھی دی جا سکتی ہے لیکن زکوٰۃ تب آئے گا جب وہ جانور مفت کے جنگل میں سال کے اکثر مہینوں میں چرتے ہوں اور ان کی تعداد ایک خاص حد تک پہنچی ہو جیسے کتب فقہ میں بیان کیا گیا ہے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 25 رجب المرجب 1420 ہجری 4 نومبر 1999ء

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری