Question & Answer

  • زکوۃ سے قرض اتارنا

    الاستفتاء

    محترم جنا ب مفتی صاحب

    السلام علیکم!

    سوال: جناب عالی! عرض خدمت ہے کہ میں نے محترم اشرف صاحب سے مال اُدھار لیا تھا اور پکوڑے وغیرہ بناتا تھا لیکن جگہ ٹوٹنے کی وجہ سے یہ ٹھیا ختم ہو گیا اور میرا کاروبار بھی بالکل ختم ہو گیا۔ میں بے روزگار ہوں اور بے انتہاء پریشان ہوں۔ نہ میری کوئی جائیداد ہے نہ کاروبار اور نہ ہی سرمایہ۔ لہٰذا کوئی شخص زکوٰۃ کی مد میں میرا قرض اُتار سکتا ہے۔ فتویٰ دے کر شکریہ کا موقع عطا فرمائیں۔

    آصف علی باغ حیات علی شاہ سکھر 9 مئی 2003ء

    الجواب بعون الملک الوھاب

    صورتِ مسؤلہ میں بر تقدیر صدقِ سائل اگر زکوٰۃ کی رقم کا آپ کو مالک بنایا جائے پھر آپ اس رقم سے قرض اُتاریں تو صحیح ہے۔ بغیر مالک کئے زکوٰۃ نکالنے والا قرض خواہوں کو دے گا تو زکوٰۃ ادا نہ ہو گی۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 24 مئی 2003ء

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری