Question & Answer

  • حرام ذریعہ سے حاصل شدہ مال پر زکوہ نہیں

    الاستفتاء

    س: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلے پر کہ

    ایک شخص جس کا ذریعہ آمدنی بالکل حرام ہے۔ اب اس شخص پر زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟ اور اگر اس مذکورہ بالا شخص پر زکوٰۃ فرض ہے تو کیا یہ شخص زکوٰۃ نکال کر مستحقین اور مساکین کو یہ رقم زکوٰۃ کر کے دے تو کیا یہ رقم ان کے لیے حلال ہے یا حرام؟ ج: زید کہتا ہے کہ اس مذکورہ بالا شخص پر شریعت کی رُو سے زکوٰۃ فرض ہے اور اگر یہ مذکورہ بالا شخص زکوٰۃ نکال کر مستحقین اور مساکین کو زکوٰۃ کی رقم دے گا تو اُن مساکین اور مستحقین کے لیے یہ رقم حلال ہے۔

    س: اور یہی مذکورہ شخص صاحب استطاعت بھی ہے تو کیا شریعت کی رُو سے اِس شخص پر حج فرض ہے یا نہیں؟

    ج: اور یہی مذکورہ بالا شخص اگر صاحب استطاعت ہے گو کہ حرام مال ہے تو اس پر حج فرض ہے گو کہ حج مقبول نہ ہو مگر فرض ادا ہو جائے گا۔

    نوٹ: کیونکہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ ہر مسلمان صاحب نصاب عاقل بالغ پر زکوٰۃ فرض ہے اور اگر شریعت میں یہ ہوتا کہ حرام آمدنی والے مال پر زکوٰۃ فرض سے آزاد ہے یعنی اس پر زکوٰۃ فرض نہیں ایسا نہیں ہے۔ سائل کے سوال کے جواب میں خود اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے پارہ نمبر 3 آیت نمبر 267 میں خود واضح فرماتے ہیں کہ اے ایمان والو! اپنی حلال کمائیوں میں سے کچھ دو اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا اور خاص ناقص کا ارادہ نہ کرو اور دو تو اس میں سے اور تمہیں ملے تو نہ لوگے جب تک اس میں چشم پوشی نہ کرو اور جان رکھو کہ اللہ بے پروا سراہا گیا ہے۔ ترجمہ کنز الایمان: امام اہل سنت اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ تعالی تفسیر نعیمی، تفسیر خزائن العرفان اور تفسیر الحسنات و دیگر تفاسیر میں صاحب تفسیر حضرات کے نزدیک اس سے کسب کی اباحت اور اموالِ تجارت میں زکوٰۃ ثابت ہوئی ہے۔ مذکورہ بالا آیت کریمہ کے علاوہ متعدد بار ارشادِ باری تعالیٰ کے مطابق کہ اللہ کی راہ میں اپنے حلال مال خرچ کرو سے ثابت ہوتا ہے مالِ حرام و مغضوب سے زکوٰۃ ادا ہوتا ہی نہیں۔

    اسی طرح فتاویٰ رضویہ کی جلد نمبر 10 کی باب الحج کے صفحہ نمبر 708 اور صفحہ نمبر 709 میں فرماتے ہیں کہ مال مغضوب و مالِ حرام جس میں تملیک یعنی وہ اس کا مالک ہی نہیں اور اگر مالِ حلال اس قدر اس کے پاس ہے یا کسی موسم میں ہوا تھا تو اس پر حج فرض ہے۔مگر رشوت وغیرہ حرام مال کا اس میں صرف کرنا حرام ہے اور وہ حج قابل قبول نہ ہو گا۔ اگر فرض ساقط ہو جائے گا۔

    حدیث میں ارشاد ہوا جو مالِ حرام لے کر حج کو جاتا ہے جب وہ لبیک کہتا ہے فرشتہ جواب دیتا ہے۔ ترجمہ: نہ تیری حاضری قبول نہ تیری خدمت قبول اور تیرا حج تیرے منہ پر مردود۔ جب تک تو یہ حرام مال جو تیرے ہاتھوں میں ہے واپس نہ دے۔

    بقولِ اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ تعالی کے اگر رشوت (مالِ حرام) کے ہزارہا روپے ہوئے تو آپ پر حج فرض ہی نہ ہوا کہ مالِ رشوت مثل مال مغضوب ہے، وہ اس کا مالک ہی نہیں ہے۔ تو واضح ہوا کہ مالِ حرام میں سے جس طرح حج فرض ہی نہیں ہوتا تو اسی طرح مالِ حرام میں جب تملیک ہی نہیں بنتی تو پھر زکوٰۃ کیونکر فرض ہو گی اور ادائے زکوٰۃ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ زید مالِ حرام کا سرے سے مالک ہی نہیں بنتا۔ (مالک ہی نہیں)  

    محمد عبدالله

    الجواب بعون الملك العلام 

    چوری۔ ڈاکہ زنی۔ رشوت کے ذریعہ حاصل شدہ روپیہ کا حکم یہ ہے کہ آدمی ان کا مالک نہیں ہوتا لہٰذا ایسے روپے کا اِس کے پاس ہونا نہ ہونا برابر ہے ایسے روپے کی نہ زکوٰۃ فرض ہے اور نہ ہی اس کی بنا پر حج لازم ہے بلکہ اس شخص کو چاہیے یہ پیسہ ان کے مالکوں کو واپس کرے۔ اگر اس نے اس پیسہ کی زکوٰۃ دی یا اس سے حج کیا تو کچھ بھی ثواب نہیں ملے گا۔

    لان اللّٰہ طیب لا یقبل الا طیبا کما ورد فی الحدیث الصحیح۔

    (مسند احمد بن حنبل رقم ۰۳۳۸،سنن دارمی رقم۷۱۷۲)

    اس طرح سود کا روپیہ جس شخص کے پاس آیا اس پر لازم ہے کہ وہ روپیہ جس سے لیا اسے واپس کرے یا اسے فقراء میں تقسیم کرے۔ نہ اس روپے سے زکوٰۃ دے نہ ہی اس کی زکوٰۃ ادا کرے اور نہ ہی حج کہ یہ خبیث مال ہے اور اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک مال ہی کو قبول فرماتا ہے۔البتہ اگر ایسے روپے سے جو حرام ہے دوسرا مال خریدا اور حرام روپے کو عقد و نقد میں جمع نہ کیا بلکہ جیسا کہ عرف ہے کہ مال خریدا جاتا ہے اس کے ریٹ طے ہوتے ہیں پھر اس مال کی قیمت ادا کی جاتی ہے اگر اس طرح مالِ حرام سے کوئی شئے خریدی تو وہ خریدی ہوئی شئے حرام نہ ہو گی۔ اب اگر اس طرح سے خریدے ہوئے مال کو تجارت کے ذریعہ مزید بڑھایا تو یہ سارا اضافہ اس کے لیے جائز ہو گا اس کی زکوٰۃ بھی دے گا اور اس سے حج بھی کرے گا اور ان شاء اللہ تعالیٰ ثواب بھی پائے گا۔ مگر جس قدر حرام روپیہ سے یہ مال بڑھایا اس قدر روپیہ کا تصدق اس پر لازم ہے مثلاً ایک لاکھ روپیہ غصب یا سود کا ہے اس سے کپڑا خریدا اور اس طرح خریدا کہ کپڑے کی قیمت بغیر ایک لاکھ روپے دکھائے طے ہوئی پھر وہ لاکھ روپیہ ادا کیا۔ یہ کپڑا حرام نہیں ہے اس کپڑے سے اس نے مزید ایک لاکھ کمایا۔ اس ایک لاکھ کی زکوٰۃ دے گا اور اس سے حج بھی کرے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ثواب کمائے گا۔ مگر ایک لاکھ روپیہ جو حرام مال تھا جس سے اس نے آگے اور کمایا ہے وہ لاکھ روپے اس کے ذمہ ہے کہ فقراء میں تقسیم کرے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    مفتی جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 10 ربیع الثانی 1418ہجری 15اگست1997ء

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری