Question & Answer

  • (سود کی رقم بغیر نیت ثواب حاجتمند کو دینا(سید کو زکوۃ دینا

    الاستفتاء

    بخدمت محترم جناب مفتی صاحب

    السلام علیکم

    سوال: مہربانی فرما کر قرآن و حدیث کی روشنی میں مندرجہ ذیل مسئلہ کا حل بتا دیں۔ (1) بینک میں اکاؤنٹ پر نفع و نقصان کی شراکت کے نام پر ملنے والے منافع کو ناجائز سمجھتے ہوئے کیا اسے مندرجہ ذیل صورتوں میں کام میں لایا جا سکتا ہے؟ کیا اس نیت سے اکاؤنٹ رکھنا مناسب ہے؟ (i) کسی بھی ضرورت مند شخص کو بغیر ثواب کی نیت سے دے دے؟ (ii) قرض میں جکڑے ہوئے کسی شخص کو قرض سے سبکدوش کرا دے جبکہ کوئی ثواب کی نیت نہ ہو؟ (iii) کیا قرض میں گھرے ہوئے کسی سید صاحب کا قرضہ بھی بغیر ثواب کی نیت کے ادا کرا سکتا ہے؟ (iv) کسی سرکاری ادارے سے جائز کام کرانے کے لیے خرچ کر سکتا ہے؟ (2) زکوٰۃ کی رقم کا کچھ حصہ یا مکمل رقم تملیک کرا کر سید صاحبان کی خدمت کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ کچھ رشتہ دار بھی سید ہیں یا ضرورت مند بھائی سید ہو۔)

    محمد یعقوب

    بابرکی بازار تھلہ سکھر

    الجواب بعون الملک الوھاب

    الجواب(1): صحیح مسلم شریف میں حضرت سیدنا جابررضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود لینے والے اور سود دینے والے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور یہ فرمایا کہ وہ سب برابر ہیں۔ لہٰذا صورتِ مذکورہ میں سود کی رقم لے کر کسی ایسے کام میں صرف کرنا جن پر کوئی ثواب بھی نہ ملے کیونکر درست ہو گا بلکہ حدیث شریف کی روشنی میں لعنت کا وبال سر پر رہے گا۔ ہاں اگر کسی کے پاس لا علمی میں سود کی رقم آ گئی تو اسے چاہیے کہ بغیر نیت ثواب کے فقراء پر صدقہ کر دے۔

    الجواب(2): زکوٰۃ کی رقم کسی مسلمان فقیر کو دے کر مالک کر دیا جائے پھر وہ فقیر اپنی طرف سے سید صاحب کی نذر کر دیں تو اس سے زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گی اور سید صاحب کی خدمت کا ثواب بھی ملے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

    ”اذا اراد ان یکفن میتا عن زکوۃ مالہ لا یجوز والحیلۃ ان یتصدق بما علی فقیر من اھل المیت ثم ھو یکفن بہ فیکون لہ ثواب الصدقۃ و لاھل المیت ثواب التکفین و کذلک فی جمیع ابواب البر کعمارۃ المساجد و بناء القناطیر“ (فتاویٰ ہندیہ)

    یعنی اگر کوئی شخص زکوٰۃ سے میت کا کفن تیار کرنا چاہے تو جائز نہیں۔ ہاں یہ حیلہ کر سکتا ہے کہ خاندان میت کے کسی فقیر پر صدقہ کر دے اور وہ میت کا کفن تیار کر دے۔ ثواب مالک کے لیے صدقے کا اور اہل میت کے لیے تکفین کا ثواب ہو گا۔ اسی طرح کا حیلہ تمام امورِ خیر مثلاً تعمیر مساجد اور پلوں کے بنانے میں جائز ہے۔

    واللّٰہ و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔

    محمد فاروق عطاری

    دارالافتاء جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 11 جمادی الاول 1421 ہجری 13 اگست 2000 ء واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    الجواب صحیح

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 11 جمادی الاول 1421 ہجری 13 اگست 2000 ء 

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری