Question & Answer

  • مدرسہ کا بچا ہوا کھانا فقراء کو دینا

    الاستفتاء

    بخدمت جناب مفتی ابراہیم صاحب

    السلام علیکم!

    سوال: جناب عرض یہ ہے کہ اگر مدرسہ کا کھانا بچ جائے تو کیا کیا جائے۔ وہ کسی غریب کو دے سکتے ہیں یا نہیں۔ جامعات المدینہ کی جو مجلس ہے وہ کہتی ہے یہ مدرسہ کا مال ہے جو کہ وقف کا مال ہے اس کو لے جانا جائز نہیں ہے۔ وہ بچا ہوا کھانا کسی غریب کو نہیں دے سکتے بلکہ سڑا کر کچرے میں ڈلوا دیتے ہیں۔ برائے مہربانی شریعت کے مطابق جواب عنایت فرمائیں۔

     شب برأت پر ایک پارٹی نے لنگر دیا تھا اس میں سے کم از کم 6 یا 7 کارٹن روٹی کے بچے اور تقریباً اتنا قورمہ بچا تھا کہ اس میں 30سے 40 افراد کھانا کھا سکتے تھے لیکن وہ بھی خراب ہو گیا اور اس کو بھی کچرے میں ڈلوا دیا۔ 2دن پہلے بھی قورمہ بچا تھا اس کو بھی کچرے میں ڈلوا دیا تھا۔ اگر کوئی دیگ باہر سے آ جاتی ہے اور اس میں سے بھی اگر بچ جائے تو اس کے لیے بھی کہا جاتا ہے کہ اس بچے ہوئے کھانے کو بھی لے جانا جائز نہیں؟  

    فاروق اعظم قادری

    الجواب بعون الملک الوھاب

    مالِ وقف سے تیار کردہ کھانا اگر ضرورت سے بچ جائے اور اس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو اسے فقراء میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور وہ اس کھانے کو گھر لے جا سکتے ہیں اور بچے ہوئے کھانے کو بلا وجہ تقسیم نہ کرنا کہ سڑ جائے گناہ ہے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 6 شوال 1429 ہجری

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری