Question & Answer

  • حیلہءِ

    الاستفتاء

    کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی ادارے کے پاس زکوٰۃ کی رقم ہے اور وہ زکوٰۃ کی رقم کسی مجبوری کے تحت کسی ایسے کام پر خرچ کرنا چاہتے ہیں جو شرعی طور پر زکوٰۃ کی رقم استعمال نہیں کر سکتے تو کیا حیلہءِ شرعی کر کے زکوٰۃ کی رقم اُس مد میں خرچ کر سکتے ہیں یا نہیں؟

    نیز حیلہءِ شرعی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ازراہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔

    والسلام

    حاجی عبدالرزاق فتانی۔

    خزانچی سورٹھ میمن جماعت سکھر

    الجواب بعون الملک الوھاب

    جواب سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ حیلہ کا معنی عرفِ عام میں دھوکہ دہی کا ہے مگر شرع کی اصطلاح میں حیلہ سے مراد شرعی تدبیر کا ہے۔ اب سوال کا جواب ملاحظہ ہو کہ شرعی ضرورت کے موقعہ پر حیلہ شرعی میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً ایک مسجد یا ہسپتال زیر تعمیر ہے۔ ایک شخص اس کی تعمیر میں حصہ لینا چاہتا ہے تاکہ اس کی تعمیر جلد مکمل ہو جائے اور لوگوں کی حاجات جو مسجد و ہسپتال سے متعلق ہیں جلد پوری ہوں مگر اس کے پاس مالِ زکوٰۃ کے علاوہ رقم لگانے کی گنجائش نہیں تو اس شخص کو جائز ہے کہ حیلہ شرعی کے ذریعہ وہ مال مسجد و ہسپتال پر خرچ کرے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ مسئلہ سے واقف شخص کو وہ مطلوبہ رقم زکوٰۃ کی نیت سے دے دے۔ پھر وہ شخص مسجد و ہسپتال کی ضروریات کے پیش نظر وہی رقم زکوٰۃ دہندہ یا کسی دوسرے شخص کو یہ کہہ کر دے دے کہ آپ اسے مسجد یا ہسپتال پر صرف کر دیں یا وہ شخص خود مسجد یا ہسپتال پر وہ رقم خرچ کر دے۔

    اس حیلہءِ شرعی سے مقصود چونکہ کارِ خیر ہے اس لیے اس رقم کے حیلوں میں کوئی حرج نہیں۔ ہاں دھوکہ دہی کے لیے حیلہ کرنا ضرور برا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی اچھی اور بری نیتوں سے خوب واقف ہے۔ ضرورت کے تحت حیلہ کرنے کا ثبوت قرآن و حدیث میں موجود ہے۔

    قرآن سے استدلال:حضرت ایوب علیہ السلام نے قسم کھائی تھی کہ میں اپنی بیوی کو سو چھڑیاں ماروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو حکم دیا کہ آپ انہیں سو تنکوں کا جھاڑو ماریں اور اپنی قسم نہ توڑیں۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

    و خُذْ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث۔(سورہ ص: 44) ترجمہ: اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لے کر اس سے مار اور قسم نہ توڑ…… یہ قسم توڑنے سے بچنے کا حیلہ ہے۔

    حدیث سے استدلال: حدیث شریف میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ، حضور سید عالم ﷺکی خدمت میں چھوہارے لائے جو اچھی قسم کے تھے۔ سرکار نے پوچھا کہاں سے لائے ہو؟

    عرض کیا میرے پاس گھٹیا قسم کے چھوہارے تھے۔ میں نے دو صاع گھٹیا چھوہارے دے کر ایک صاع بڑھیا چھوہارے خرید لیے۔ فرمایا یہ تو سود ہے۔ اب آئندہ ایسا کرنا کہ گھٹیا چھوہارے پیسوں کے بیچ دینا پھر ان پیسوں سے حسب منشاء اچھے چھوہارے خرید لینا۔ دیکھئے سرکارﷺنے حضرت بلال کو سود سے بچاؤ کے لیے حیلہ تعلیم فرمایا۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 18 ربیع الثانی1420ہجری

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری