Question & Answer

  • بہن کو زکوۃ دی جا سکتی ہے

    الاستفتاء

    ( 1-2): ہماری سوتیلی بہن ہیں۔ ہماری ماں ایک ہیں لیکن باپ دو ہیں۔ تو کیا ہم ان کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟ (2) دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کیا زکوٰۃ دینے والے کو بتانا ضروری ہے کہ یہ پیسے زکوٰۃ کے ہیں۔ 

    محترم قاری صاحب یہ دو مسائل ہیں۔ ہم ان کا جواب چاہتے ہیں۔ لہٰذا مہربانی فرما کر آپ ان کا جواب تحریری طور پر دیں۔ شکریہ

    عرض دار

    محمد صابر

    الجواب بعون الملک الوھاب

    (1-2): بہن سگی ہو یا سوتیلی اسے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے اور جس کو زکوٰۃ دی جائے اسے بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ ہے بلکہ نہیں بتانا چاہیے تاکہ کسی کی عزت نفس متاثر نہ ہو۔ گفٹ۔ ہدیہ۔ تحفہ۔ بچوں کی خرچی یا عیدی کا نام دینا چاہیے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم جامعہ غوثیہرضویه

    سکھر 13 رمضان المبارک 1424 ہجري

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری