Question & Answer

  • خلوت سے پہلے طلاق دی گئی تو عدت نہیں

    الاستفتاء

    (1-2): علمائے دین شرع متین کیا فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان عورت کا نکاح ہو گیا اور اُس عورت کی شادی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد اس شوہر نے اس کو طلاق دے دی۔ کیا وہ عورت عدت کے دن گزارے گی یا نہیں؟ 

    (2)ایک مسلمان عورت نے شادی کی اور اپنے شوہر کے ساتھ ہم بستر ہوئی اور وہ شوہر نامرد ہونے کی بنا پر جماع نہ کر سکا اور اس شوہر نے طلاق دے دی۔ تو کیا اس صورت میں وہ عورت اس طلاق کے بعد عدت کے دن گزارے گی یا نہیں؟ اور اگر گزارے گی تو کتنے دن تک؟ بینوا توجروا

    الجواب بعون الملک الوھاب الجواب

    (1): اگر جماع کی طرف خلوت بھی نہیں ہوئی نہ صحیحہ نہ فاسدہ تو ایسی مطلقہ پر عدت نہیں اور شوہر نصف مہر دے گا۔ (درِ مختار ج 2ص 468,445)

    الجواب (2): چونکہ خلوتِ صحیحہ ہو چکی ہے لہٰذا ایسی مطلقہ پر عدت واجب اور شوہر مہرکامل دے گا اور عدت تین حیض ہے۔

    درِ مختار ج2ص 468 ج میں ہے۔ و لو فان الزوج محبوبا او غنیاء و خصیا الخ……

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم دارالافتاء جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 16 محرم الحرام 1408 ہجری 10 ستمبر 1987ء

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری